11 August 2010
وقت کا استعمال
ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی
علامہ شبلی نعمانی نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ وہ لندن کا سفر ایک آبی جہاز سے کر رہے تھے کہ اچانک طوفان آیا۔ شبلی نعمانی جس جہاز سے سفر کر رہے تھے ،اسی میں ایک مشہور مشتشرق اور علامہ اقبال کے اُستاد تھامس آرنلڈ بھی سفر کر رہے تھے ۔ مگر جب شبلی کی نظر تھامس آرنلڈ پر پڑی تو حسب سابق جہاز میں مصروف مطالعہ تھے ، حالانکہ باقی سب لوگوں کو طوفان کی وجہ سے بڑی پریشانی لاحق ہوئی تھی اور وہ اِدھر اُدھر دوڑ رہے تھے ، کیونکہ جہاز ہچکولے کھا رہا تھا ۔ شبلی نے آرنلڈ کے پاس جاکر اُن سے پوچھا کہ وہ کس طرح ان حالات میں بھی مطالعے میں مصروف رہ پارہے ہیں ؟ تو آرنلڈ نے جواب دیا ، اگر جہاز کو ڈوبنا ہوگا تو میں اس کو بچانے کے سلسلے میں کیا کرسکتا ہوں، البتہ پریشان بیٹھ کر وقت ضائع کرنے سے بہتر تو یہی ہے کہ مطالعہ میں مصروف رہوں ۔

اسلام سے پہلے جانوروں کے ساتھ بہت ہی وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا۔ ایک دستور عرب میں یہ بھی تھا کہ جب کوئی آدمی مرجاتا تو اس کی سواری کے جانورکو اس کی قبر پر باندھتے تھے۔ اس کو دانہ پانی اور گھاس نہیں دیتے تھے ۔ اور وہ اسی حالت میں سوکھ کر مر جاتا ، ایسے جانورکو ہلتےہ کہتے تھے ۔ اسلام نے اس کو مٹایا ۔ عرب میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ جانور کو کسی چیزسے باندھ کر اس پر نشانہ لگاتے تھے ۔ آنحضرت ﷺ نے اس قسم کے جانوروں کے گوشت کو نا جائز قرار دیا اورحکم عام دیا کہ کسی ذی روح کو اس طرح نشانہ نہ بنایا جائے ۔ ایک بے رحمانہ طریقہ یہ تھا کہ زندہ اونٹ کے کوہان اور اس کے دُم کی چکتی کاٹ کر کھاتے تھے : رسول ﷺ نے مدینہ میں آکر یہ حالت دیکھی تو فرمایا کہ اس طریقے سے زندہ جانوروں کا جو گوشت کاٹ کر کھایا جاتا ہے مرُدار ہے۔