وقت کا استعمال

ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی

علامہ شبلی نعمانی نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ وہ لندن کا سفر ایک آبی جہاز سے کر رہے تھے کہ اچانک طوفان آیا۔ شبلی نعمانی جس جہاز سے سفر کر رہے تھے ،اسی میں ایک مشہور مشتشرق اور علامہ اقبال کے اُستاد تھامس آرنلڈ بھی سفر کر رہے تھے ۔ مگر جب شبلی کی نظر تھامس آرنلڈ پر پڑی تو حسب سابق جہاز میں مصروف مطالعہ تھے ، حالانکہ باقی سب لوگوں کو طوفان کی وجہ سے بڑی پریشانی لاحق ہوئی تھی اور وہ اِدھر اُدھر دوڑ رہے تھے ، کیونکہ جہاز ہچکولے کھا رہا تھا ۔ شبلی نے آرنلڈ کے پاس جاکر اُن سے پوچھا کہ وہ کس طرح ان حالات میں بھی مطالعے میں مصروف رہ پارہے ہیں ؟ تو آرنلڈ نے جواب دیا ، اگر جہاز کو ڈوبنا ہوگا تو میں اس کو بچانے کے سلسلے میں کیا کرسکتا ہوں، البتہ پریشان بیٹھ کر وقت ضائع کرنے سے بہتر تو یہی ہے کہ مطالعہ میں مصروف رہوں ۔

دِیانت

ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی

امام ابو حنیفہؒ ایک بہت بڑے تاجر بھی تھے۔ اکثر شہروں میں ان کی ایجنسیاں موجود تھیں۔ بڑے بڑے سوداگروں سے معاملہ رہتا تھا اور لاکھوں کا لین دین ہوتا تھا۔ اس قدر وسیع کاروبار کے ساتھ اتنی احتیاط برتتے تھے کہ ان کے خزانے میں ایک پائی ناجائز طور پر داخل نہ ہوسکتی تھی۔ اس احتیاط کے باعث اگر کبھی نقصان پہنچ جاتا تو ملول نہیں ہوتے تھے۔ ایک دفعہ حفص بن عبدالرحمن کے پاس کپڑے کے تھان فروخت کیلئے بھیجے اور انہیں کہلا بھیجا کہ فلاں فلاں تھان میں عیب ہے۔ بیچتے وقت خریدار کو دکھلا اور جتلا کر دینا۔ حفص کو تھان فروخت کرتے وقت ےہ ہدایت یاد نہ رہی اور عیب بتائے بغیر مال فروخت کردیا۔ امام صاحب کو اس امر کی اطلاع ملی ، تو انہیں بہت افسوس ہوا۔ کفّارہ کی اور توکوئی صورت نظر نہ آئی، کیونکہ تھان ایسا شخص لے گیا تھا جس کا اتا پتا معلوم نہ تھا، اس لئے آپ نے ان تھانوںکی قیمت جو تیس ہزار درہم تھی ، خیرات کردی۔ ایک اور موقع پر امام صاحب کے پاس ایک عورت ایک تھان بیچنے کےلئے لائی ۔ امام صاحب نے دام پوچھے تو اس نے سو روپے بتائے۔ آپ نے فرمایا کم ہیں، تو اس نے کہا دو سو دیجئے ۔ آپ نے فرمایا تھان پانچ سو سے کم قیمت کا نہیں۔ عورت نے حیران ہوکر پوچھا: ”آپ مذاق تو نہیں کرتے“؟ امام صاحبنے کہا: ”نہیں“ اور اُسے پانچ سو روپے دےکر تھان اپنے پاس رکھ لیا۔

جانوروں کے حقوق

ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی

اسلام سے پہلے جانوروں کے ساتھ بہت ہی وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا۔ ایک دستور عرب میں یہ بھی تھا کہ جب کوئی آدمی مرجاتا تو اس کی سواری کے جانورکو اس کی قبر پر باندھتے تھے۔ اس کو دانہ پانی اور گھاس نہیں دیتے تھے ۔ اور وہ اسی حالت میں سوکھ کر مر جاتا ، ایسے جانورکو ہلتےہ کہتے تھے ۔ اسلام نے اس کو مٹایا ۔ عرب میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ جانور کو کسی چیزسے باندھ کر اس پر نشانہ لگاتے تھے ۔ آنحضرت ﷺ نے اس قسم کے جانوروں کے گوشت کو نا جائز قرار دیا اورحکم عام دیا کہ کسی ذی روح کو اس طرح نشانہ نہ بنایا جائے ۔ ایک بے رحمانہ طریقہ یہ تھا کہ زندہ اونٹ کے کوہان اور اس کے دُم کی چکتی کاٹ کر کھاتے تھے : رسول ﷺ نے مدینہ میں آکر یہ حالت دیکھی تو فرمایا کہ اس طریقے سے زندہ جانوروں کا جو گوشت کاٹ کر کھایا جاتا ہے مرُدار ہے۔